CSS past papers · 2021

CSS 2021 Urdu Literature Past Paper

Download and review the CSS 2021 Urdu Literature Past Paper on CSS Vista, with archive details, related papers and a direct PDF link for examination preparation.

Paper details

Examination
CSS
Year
2021
Subject
Urdu Literature
Paper
Single Paper
Subject type
Optional
Mode
Subjective

Browse the complete CSS Vista past-paper archive.

Questions recorded from this paper

These 4 question wordings are transcribed from CSS Vista’s structured Urdu Literature past-paper record for CSS 2021.

  1. Q2 · Integrated / Cross-Syllabus Questions(الف) درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی لکھیئے موج محیط بے خودی ہے ِ نفس )(2 شعلہ خس یک نفس ہے ٔ فروغ ِ )(1 جزواول ّ تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا ناموس وفا کیا ِ پاس ہوس کو ِ یہ قاتل وعدہ صبر آزما کیوں )(4 دماغ عطر پیراہن نہیں ہے ِ )(3 یہ کافر فتنہ طاقت ربا کیا؟ غم اوارگی ہائے صبا ،کیآ ِ نئے سرے سے غضب کی سج کر جزودوم عجوزہ سومنات نکلیٔ مگر ستم پیشہ غزنوی حجلہ خاک میں ہے خنداں ٔ اپنے وہ سوچتا ہے بھری جوانی سہاگ لوٹا تھا میں نے اُس کا مگر مرا ہاتھ روح عظیم پر بڑھ نہیں سکا تھا ِ اُس کی اور اب فرنگی یہ کہہ رہا ہے کہ آؤ آؤ اس ہڈیوں کے ڈھانچے کو جس کے مالک تمہیں ہو نور کم خوب سے سجائیں ہم مل کر ِ )(10 مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب لکھیے ۔ (ب) فیض کی شاعری میں جذبہ اور نظریہ دونوں موجود ہیں۔ ڈاکٹر انور سدید کے اس خیال کی ت صبا کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیجیے۔روشنی میں دس ِ یا ’’ ایران میں )(Contesکانتو کہا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل پیش کرتے ہوئے ان نظموں اجنبی‘‘ کے دوسرے حصے کو ن۔م۔راشد نے کے فنی خصائص پر بھی بحث کیجیے۔
  2. Q3 · Integrated / Cross-Syllabus Questions(الف) احمد ندیم قاسمی نے پنجاب کے دیہات کو اُردو ادب میں اعتبار بخشا ’’ کپاس کا پھول ‘‘کے تناظر میں بحث کیجیے۔ یا منٹو کو برصغیر کا تخلیقی ضمیر کہا گیا ہے۔ شاید اسی لیے منٹو کا افسانہ کبھی بھی زائد المیعاد نہیں ہوا۔ اس اجمال کی تفصیل پیش کیجیے۔ )(10 مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کریں۔نیز مصنف و مضمون کا نام بھی لکھیے۔ (ب) ُ مسلمان مصنفین بے ضرورت اردو میں فارسی کے غیر مانوس الفاظ استعمال کرنے سے جہاں ّ تک ہو سکے پرہیز کریں۔ اور ان کی جگہ برج بھاشا کے مانوس اور عام فہم الفاظ سے اُردو کو ماالمال کرنے کی کوشش کریں۔ اور اس طرح دونوں قوموں میں آشتی اور صلح کی بنیاد مقبولہ فریقین بنائیں جیسی کہ لکھنو جانے سے پہلے تقریبا ً ٔ ڈالیں اور ایک متنازعہ فیہ زبان کو اہل دہلی کی زبان تھی۔ مذکورہ باال اختالف کے متعلق جو تعصب اور ناگواری کا الزام ہندوؤں ِ پر لگایا جا سکتا ہے اس قسم کابلکہ اس سے زیادہ سخت الزام مسلمانوں پر لگایا جا سکتا ہے۔ یا اس زمانے میں کن میلئے محلوں بازاروں میں پھیری لگاتے تھے۔ کان کا میل نکالنے پر ہی کیا موقوف دنیا جہاں کے کام گھر بیٹھے ہو جاتے تھے۔ سبزی گوشت اور سودا سلف کی خریداری ،حجامت ،تعلیم ،زچگی ،پیڑھی ،کھاٹ ،کھٹولے کی۔۔۔ یہاں تک کہ خود اپنی مرمت بھی۔ سب گھر بیٹھے ہو جاتی۔ بیبیوں کے ناخن نہرنی سے کاٹنے اور پیٹھ ملنے کے لیے نائنیں گھر آتی تھیں۔ کپڑے بھی مغالنیاں گھر آکر سیتی تھیں تاکہ نامحرموں کو ناپ تک کی ہوا نہ لگے۔ حاالنکہ اس زمانے کے زنانہ پوشاک کے جو نمونے ہماری نظر سے گزرے ہیں وہ ایسے ہوتے تھے کہ کسی بھی لیٹر بک س کا ناپ لے کر سیئے جا سکتے تھے۔ غرضیکہ سب کام گھر ہی میں ہو جاتے تھے۔ حدیہ کہ موت تک گھر میں واقع ہوتی تھی۔ اس کے لیے باہر جا کر کسی ٹرک سے اپنی روح قبض کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
  3. Q4 · Integrated / Cross-Syllabus Questions)(10 کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجئے عمل مسلسل کا نام ہے جس کا طبعی تحرک کبھی ختم نہیں ہوتا اور ِ انسانی زندگی ایک ایسے جس کی صبا رفتاری کے آگے کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برگساں نے زندگی کو ایک ایسے صبا رفتار گھوڑے سے تشبیہ دی ہے جو افق کی تالش میں سرگرداں کسی مقام پر ٹھہرے بغیر بڑھتا چال جاتا ہے۔ یوں بھی حرکت ایک مطلق حقیقت ہے باعتبار اضافت ہے۔ جو زائد حرکت کی نسبت سے ساکن اور کم حرکت کی نسبت ِ اور سکون سے متحرک ہوتا ہے۔ اس تسلسل حیات کے برعکس جب جمود کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد زندگی کی رفتار کو روک دینا یا اسے جامد کرنا نہ یں ہوتا بلکہ مقصد یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ زندگی سے تخلیق کی تازگی مفقود ہو گئی ہے اور اسلوبِ حیات ایک ِگھسے ِپٹے سانچے کو قبول کرنے لگا ہے۔ ایسی صورت میں زندگی کا تسلسل حیوانی سطح پر تو قائم رہتا ہے لیکن اس میں جدت اور تنوع کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔ یا زبان و ثقافت ایک قوم کی بائبل ہوتی ہے۔ یہ اُس کا نمک ذائقہ اور اس کی شان شناخت ہوتی ہیں۔ اس کی مرکزی موٹی جڑوں میں سے ایک ہوتی ہے۔زبان و ثقافت کسی قوم کے دل کا ساحل ہوتی ہے۔ یہ کسی قوم کی زندگی کا Vital Organہوتی ہیں جو قوم کی موت کی صورت میں بھی سب سے آخر میں مرتی ہیں۔ ہمارے کلچر کاغذی نہیں ہیں مصنوعی نہیں ہیں اور ریاستی نہیں ہیں۔ ہمارے زندہ کلچرز اپنی زمین میں پیوست ہیں اور عوامی ہیں ہمارے کلچرز اور زبانوں نے تبدیل پذیر رجحانات سے نمٹا ہے۔ تاریخ کے پورے دورانیے میں وہ ڈیموگرافکس ،ٹیکنالوجی ،گلوبالئزیشن اور اس کے ویلیوسسٹم سے کامیابی کے ساتھ معامالت کرتے آرہے ہیں۔ چنانچہ ہماری مادری اور قومی ثقافتیں اس قدر مضبوط و توانا ہیں کہ انہیں احساس کمتری میں مبتال ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ِ کسی بھی
  4. Q5 · Integrated / Cross-Syllabus Questions)(20 کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیئے ( الف) نیوورلڈ آرڈز اور اُردو فکشن حلقہ اربابِ ذوق ٔ (ب) (ج) فلسفہ وجودیت اور اُردو فکشن

Topic-wise Urdu Literature past-paper analysis.